اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ صیہونی روزنامہ ہارٹس کے مطابق بدنام زمانہ امریکی خفیہ ایجنسی این ایس اے کے سربراہ ایڈمرل مائیکل راجرس نے گذشتہ ہفتے مقاومتی محور بالخصوص ایران وحزب اللہ پر سائبرحملوں سے متعلق تعاون بڑھانے کی غرض سے تل ابیب کا خفیہ دورہ کیا ہے۔
روزنامہ کے مطابق اگرچہ این ایس اے کا دورہ پہلے سے طے تھا تاہم یہ دورہ خفیہ طور پر انجام پایا اوراسرائیلی خفیہ ایجنسیوں کے اعلیٰ عہدیداروں نے اسکی میزبانی کی جس میں ڈی ایف آئی کارپوریشن یونٹ 8200 بھی شامل ہے۔
ہارٹس کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسی این ایس اے اوراسرائیلی یونٹ 8200 کے درمیان حزب اللہ اور ایران کے حوالے سے گہرا تعاون ہے ۔
این ایس اے اوراسرائیلی خفیہ ایجنسیوں نے بارہا مقاومتی محورکی ویب سائٹوں کو اپنے سایبر حملوں کا نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے ۔
امریکی خفیہ ایجنسی این ایس اے نہ صرف اپنی عوام بلکہ دیگر بیرونی ممالک اور ان کے سربراہوں کی جاسوسی کرتی آرہی ہے ۔
نیویارک ٹائمز کےصحافی ڈیوڈ سانگر اپنی کتاب میں اس بات کا خلاصہ کر چکے ہیں کہ این ایس اے اوراسرائیلی یونٹ 8200 نے عالمی کھیلوں کے نام سے ایرانی جوہری پروگرام پر ایک بہت بڑا حملہ کیا تھا ۔
واضح رہے کہ ایک صیہونی فوجی افسر نے دعویٰ کیا تھاکہ 2014 ءمیں غزہ پر اسرائیلی مسلط کردہ جنگ کے دوران ایران اورحزب اللہ نے بھی اسرائیل پر سخت سائبر حملے کئے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲